دل اپنا بہلتا ہے اب جھوٹے بہانے سے
Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiدل اپنا بہلتا ہے اب جھوٹے بہانے سے
ڈرتا ہے بہت اب تو یہ سنگِ زمانے سے
ہم نے تو چھپائے ہیں سب زخم جگر اپنے
کیا فائدہ اب ان کو دنیا سے چھپانے سے
حالات کی تپش نے اب ہم کو جلایا ہے
بچتا ہے بھلا کوئی اس آگ جلانے سے
تنگ آ کے محبت میں اب ہم نے یہی سوچا
شکوے ہیں بہت اپنے بے درد زمانے سے
رزقِ حلال کی خاطر دن رات جو پھرتے ہیں
عزت ہی تو ملتی ہے یہ رزق کمانے سے
مظہر یہاں تیروں کے ہم بن گئے ہیں مرکز
بچتا ہے بھلا کوئی اس تیز نشانے سے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






