“خاموش دل کی صدا”
Poet: Muhammad Ramzan Farooq By: Muhammad Ramzan , Wazirabadاکیلے لمحوں میں محبوب کی یاد رہی
محبت کے ہر درد نے دل کو جکڑ لیا
۲۔ خاموشیوں نے سب کچھ سن لیا
پر دل کی صدا صرف تم تک پہنچی
۳۔ ہر رات تنہائی میں خوابوں کا سفینہ ٹوٹا
اور دل کی لہر نے چپکے سے فسانہ سنایا
۴۔ زخمِ محبت نے لبوں کو خاموش رکھا
پر دل کی دھڑکن نے تمہارے نام گایا
۵۔ یاد میں تمہاری ہر لمحہ اشکوں میں ڈوب گیا
میرا دل تمہاری خاموشی کے دریا میں بہ گیا
۶۔ تمہاری خوشبو نے ہر گوشہ چھوا
پر دل کی صدا پھر بھی تنہا رہی
۷۔ ایک امید باقی تھی، دل کے کونے میں چھپی
تمہارے خیال نے ہر غم کو چھپا لیا
۸۔ اور آخری صدا، دل کے اندر گونجی
میری محبت کی ہر آہ نے تمہیں اپنا کہہ کر، ہر پل تمہاری یاد میں جیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






