جب میں پہلی بار جگا تھا
Poet: M R Chishti By: M R Chisht, Muzaffarpur Indiaجب میں پہلی بار جگا تھا
پہلے تیرا نام لیا تھا
پیپل کی اک ڈال پہ سورج
بیٹھا مجھ کو دیکھ رہا تھا
سناٹوں میں شوخ ہوا سے
کھڑکی کا پردہ ہلتا تھا
تیرے شہر کو جانے والا
وہ رستہ خود ہی چلتا تھا
دھوپ چٹائ پر لیٹی تھی
اور سمندر کھانس رہا تھا
آہ جدائی کا وہ لمحہ
چاند گلے لگ کر رویا تھا
کھڑکی سے وہ رات گئی تھی
دروازے سے دن آیا تھا
رسموں کے ظالم ہاتھوں پر
وعدوں کا اک پھول کھلا تھا
امیدوں کی ڈال پہ پھر سے
ایک پرندہ جا بیٹھا تھا
خواب کے سونے چھت پہ چشتی
سرد ہواؤں کا پہرہ تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






