اے ہواؤ میری تنہائی سے الجھا نہ کرو
Poet: M R Chishti By: M R Chishti, Muzaffarpur Indiaاے ہواؤ میری تنہائی سے الجھا نہ کرو
تم کسی اور کو یاد آنے سے روکا نہ کرو
کوئی گمنام سا جملہ ہے نظر کا طالب
بن پڑھے آج ہر اک صفحہ کو پلٹا نہ کرو
کون جاگا ہے میرے سینے میں کروٹ لے کر
دھڑکنوں چپ رہو تنہائی سے الجھا نہ کرو
مجھ کو خود بھی نہیں معلوم کدھر جاؤں گا
میں ہوں آوارہ ہوا مجھ پہ بھروسہ نہ کرو
مجھ کو منظور ہیں دنیا کے مصائب سارے
میری آنکھوں سے میرے خواب کو نوچا نہ کرو
عشق گمنام سی راہوں کا مسافر ٹھہرا
تم سر راہ مجھے ہنس کے پکارا نہ کرو
مجھ کو بچپن میں کہا تھا کبھی اک بوڑھے نے
خاک ہو خاک سے زیادہ کی تمنا نہ کرو
منزلیں خود میرے قدموں سے لپٹ جاتی ہیں
میں قلندر ہوں میرا راستہ روکا نہ کرو
وقت نے مجھ کو یہ سکھلا ہی دیا ہے چشتی
"تم سمندر کی رفاقت پہ بھروسہ نہ کرو"
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






