تیری بے لوث محبت پہ بہت سوچا ہے
Poet: اےبی شہزاد By: AB shahzad, Mailsiتیری بے لوث محبت پہ بہت سوچا ہے
ہوئی پھر کیسے عداوت پہ بہت سوچا ہے
پیار کرنا نہیں کہتا تھا یہی میں سب کو
پیار میں آئی تمازت پہ بہت سوچا ہے
رب نے فرصت سے بنایا ہے نوازہ ہے حسن
پھول سا چہرہ نزاکت پہ بہت سوچا ہے
تیری مسکان نہیں بھول سکا ہوں اب تک
خوش دلی اور رعونت پہ بہت سوچا ہے
ہوئی سیلاب کے آنے سے مری بربادی
آیا نقصان تجارت پہ بہت سوچا ہے
ملتے شہزاد ہو کیوں پیار محبت سے تم
جانے کیوں ہوئی حماقت پہ بہت سوچا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






