تھے ہم استادہ ترے در پہ ولے بیٹھ گئے
Poet: بقا اللہ بقاؔ By: مصدق رفیق, Karachiتھے ہم استادہ ترے در پہ ولے بیٹھ گئے
تو نے چاہا تھا کہ ٹالے نہ ٹلے بیٹھ گئے
بزم میں شیخ جی اب ہے کہ ہے یاں عیب نہیں
فرش پر گر نہ ملی جا تو تلے بیٹھ گئے
غیر بد وضع ہیں محفل سے شتاب ان کی اٹھو
پاس ایسوں کے تم اے جان بھلے بیٹھ گئے
گھر سے نکلا نہ تو اور منتظروں نے تیرے
در پہ نالے کیے یاں تک کہ گلے بیٹھ گئے
ناتواں ہم ہوئے یاں تک کہ تری محفل تک
گھر سے آتے ہوئے سو بار چلے بیٹھ گئے
اشک اور آہ کی شدت نہ تھمی گرچہ بقاؔ
گھر کے گھر اس میں ہزاروں کے جلے بیٹھ گئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






