آ بھی جاؤ
Poet: نائلہ رانی By: نائلہ رانی, Lahoreآ بھی جاؤ کہ دل بہت اداس ہے
چھا بھی جاؤ کہ سمندر سی پیاس ہے
گھڑی دو گھڑی کی بات نہیں ہے ساقی
میرے اندر ہے اشکوں کی اک جھڑی
کس طرح بتائیں کہ برس رہی ہیں آنکھیں
طلب محبت میں تر س رہی ہیں آنکھیں
آہ!میری تنہائ اور خو شبو کا اک ساغر
واہ! تیرا پیار اور دیدار یار کا وہ عالم
ہم ازل سے سمجھا رہے ہیں تم کو فہیم
تمنا خواہش حسرت غم اور وہ رحیم
اک حالہ نور ہے فلک پر چھا یا ہوا
جیسے یاد غم کو بہاراں میں ہے چھپا یا ہوا
آ بھی جاؤ کہ . دل بہت اداس ہے
چھا بھی جاؤ کہ سمندر سی پیاژ ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






