تجھے دیکھ کر سحر ہو
Poet: Ghulam Mujtaba Haashmi Yaasir Al Barkaati By: Ghulam Mujtaba Haashmi Yaasir Al Barkaati, Hyderabad, Pakistanمیری زندگی کا ہر پل ، تیری چاہ میں بسر ہو
تجھے سوچوں رات بھر میں ، تجھے دیکھ کر سحر ہو
دل و جاں سے تجھ کو چاہا، ہے خدا سے تجھ کو مانگا
تو مرے جو سامنے ہو، مجھے اپنی کیوں خبر ہو
تری اک نگاہِ غافل ، ہے مرے جنوں کا حاصل
نہ ہو مجھ کو فکرِ دنیا، تری مجھ پہ گر نظر ہو
ہوا کیا وہ تیرا پیماں، میں ابھی تلک ہوں حیراں
کوئی تو پیام آئے، تو کبھی تو جلوہ گر ہو
نہ ہو مجھ کو فکرِ منزل ، نہ ہی خوف گمرہی کا
مری مشکلیں ہوں آساں، تو مرا جو ہمسفر ہو
کیوں نہ ہو تو رسوا یاسر، ہوئی یہ خطا ہے آخر
تو چلے ہے دل کی رہ پر، بھلے راہ پُر خطر ہو ۔
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






