جان جانا۔۔!
Poet: Umar Hayat ( EMAAN ) By: Umar Hayat Gill, faisalabadدفنا کر جذ بات بے شمار جان جانا
بنا رہا ہوں اک میں مزار جان جانا
دھمال ہوگی کوئی ، نہ کلام صوفیانہ
تیرے ستم ہی کا ہوگا شمارجان جانا
وجدمیں آۓ گانہ کسی کی ہوگی حاضری
تیری خوشبوہی کاہوگاخمارجان جانا
نیازدےگا کوئی،نہ چڑھےگی کوئی چادر
سماتیرےحسن ہی سےہوگابہارجان جانا
اذاں کہےگا کوئی ،نہ لگےگاکوئی نعرہ
تیرے نام ہی کا ہوگا پرچار جان جانا
عبادت بھی ہوگی،اورتیرانام بھی نہ لینگے
یہ عیاں کبھی نا ہوگا اسرار جان جانا
تو کب میرا ہوگا ؟ تو کب میرا ہوگا؟
یہ حیات دیتا ہوگا پکار جان جانا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






