یہ نیا سال یوں الفت میں منایا جائے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا یہ نیا سال یوں الفت میں منایا جائے
درد آنکھوں میں محبت کا جلایا جائے
اپنے جذبات کوآنکھوں میں دکھایا جائے
کتنا مشکل ہے سمندر کو بہایا جائے
مجھکو اُمّید ہے لوٹ آٸیں گی خوشیاں پھر سے
دل سے نفرت کو اگر یار مٹایا جاٸے
لاکھ دشمن ہی سہی آج وہ مل جاٸے اگر
سوچتی ہوں اسے سینے سے لگایا جاٸے
میری آنکھوں کی تو پھر کوٸی ضرورت ہی نہیں
تیری آنکھوں سے اگر خواب سجایا جائے
اس نٸے سال میں خوشیوں کی رکھی تھی امید
کب کہا اور مرا درد بڑھایا جاٸے
میں تو سمجھی تھی مرے پیار میں تر ہیں آنکھیں
یہ مگر اور ہی دریا کو بہایا جائے
آخری غم ہے محبت میں یہ وشمہ بی بی
بس یہی سوچ کے ہر غم کو اٹھایا جائے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






