!!اک بار تو توُ بھی میرا بن
Poet: سیدہ سعدیہ عنبرؔ جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبرؔ جیلانی, فیصل آباد، پنجاب ، پاکستانسو بار نہیں ۔۔۔۔۔ اِک بار صنم
اِک بار تو تُو بھی بول صنم
اک بار تو کہہ توُ میرا ہے
اِک بار تو توُ بھی میرا بن
یہ لفظ نہیں ، ہے ایک دعا
کبھی سن بھی سہی میری صدا
ہے دست ء دعا میں ٹھہرا ہوا
اب تو اور تیرا نام صنم
اب دوا کر یا دے دعا
میرے درد کو بھی ہو شفا
اب توڑ بھی دے یہ خاموشی
اب توُ بھی تو کُچھ بول ذرا
چل اتنا کہہ دے میرا ہے
توُ اور تیرا مان صنم
اک بار تو توُ بھی میرا بن
یہ ہم بھی کیا ہیں کہہ بیٹھے
یہ کیسی خواہش لے بیٹھے
یہ ہے ۔۔۔۔۔پرانی ریت صنم
جُو مانگی ، وُہ تو بھیک صنم
جُو آپ ملے، سر آنکھوں پر
اِک نظر صنم ، اِک لفظ صنم
اِک بار تو توُ بھی میرا بن
مُمکن ہے تُجھے میسر ہوں
چند اور بھی دل دیوانے سے
پر عنبرؔ سا کوئ ڈھونڈ کے لا
جو جل کر تیری مہک بنے
جو ہر پل تیری تفسیر کرے
اور توُ ہو اسکی تکمیل صنم
اک بار تو توُ بھی میرا بن
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






