ہمیں شکوہ نہیں قسمت کے لکھے افسانے سے
Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiہمیں شکوہ نہیں قسمت کے لکھے افسانے سے
ہمیں زخم آشنا ہیں وقت کے ہر امتحانے سے
کئی وعدے تھے جو ٹوٹے ہمیں ہنس کر گرانے سے
ہماری سادگی ہاری ہمیشہ مسکرانے سے
جلے ہیں خواب آنکھوں میں کئی سچ کو بچانے سے
لہو ٹپکا ہے لفظوں سے حقیقت کو چھپانے سے
ہمیں معلوم ہے کیا کچھ ملا اس بے وفائی میں
شکوے ہیں بہت اپنے بے درد زمانے سے
ہمیں فرصت نہیں ملی کبھی زخموں کو سہلانے سے
یہ دل تھک سا گیا ہے بارہا خود کو جلانے سے
کبھی آواز دی ہم نے وفا کو آزمـانے سے
مگر لوٹا نہیں کوئی بھی ٹوٹے آستانے سے
مظہرؔ سچ کی قیمت کم ہی ملے گی اس جہاں میں
یہی انجام ہوتا ہے یہاں حق کو کمانے سے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






