خاموشیوں نے لکھ دی تفسیرِ داستاں کی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, پاکستانخاموشیوں نے لکھ دی تفسیرِ داستاں کی
لفظوں میں اب کہاں وہ طاقت ہے زباں کی
ہم آئینے میں خود کو پہچانتے نہیں ہیں
یہ بھی نئی علامت ہے شہرِ امتحاں کی
آن لائن مسکراہٹ، آنکھوں میں ہے ویرانی
کیا قیمت اب رہی ہے خوابوں کے آشیاں کی
سچ بولنا بھی اب تو اک فن سمجھ لیا ہے
یہ سوچ کس نے بدلی اہلِ حکمراں کی
محنت تو روز ہوتی ہے، نام کوئی اور لے
قسمت میں پھر بھی لکھی محنت باغباں کی
گلشن ہرا بھرا ہے تصویروں کی حدوں تک
اندر سے مر رہی ہے مٹی اس گلستاں کی
ٹوٹے ہوئے پروں سے اُڑنے کی ضد ہے وشمہ
باقی ہے کچھ نشانی شاید آشیاں کی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






