کلامِ دل سے نکالی کتاب ہے جناب کی
Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiکلامِ دل سے نکالی کتاب ہے جناب کی
چراغِ حَرف میں جلتی شتاب ہے جناب کی
نظر میں عکسِ اُلفت ہے، شباب ہے جناب کی
جو موجِ زیست میں آئی، شراب ہے جناب کی
اَدب کی راہ میں روشن، شہاب ہے جناب کی
جو حَرف حَرف میں ڈھلتی نِصاب ہے جناب کی
دُعائیں بانٹنے والا، خطاب ہے جناب کی
جو َلب پہ آ کے رُکے وہ، گلاب ہے جناب کی
کہاں سے آئے یہ خوشبو؟ نقاب ہے جناب کی
جو عکس بن کے چمکتی، وہ آب ہے جناب کی
وہ جس کے ذِکر سے مہکے، سحاب ہے جناب کی
جو دھڑکنوں میں اُترتی، وہ تاب ہے جناب کی
سخن کے رنگ میں ہر بات، خواب ہے جناب کی
جو دل پہ اترے وہ نازک، جواب ہے جناب کی
جو لوحِ وقت پہ مظہرؔ، حساب ہے جناب کی
وہ سَطر سَطر جو چمکے، کتاب ہے جناب کی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






