نہیں ہم میں کوئی ان بن، نہیں ہے
Poet: ✍️مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiنہیں ہم میں کوئی ان بن، نہیں ہے
بس اتنا ہے کہ اب وہ من نہیں ہے
نہ کوئی رنج باقی، نہ شکایت
محبت ہے مگر روشن نہیں ہے
میں اپنے آپ کو سلجھا رہا ہوں
تمہیں لے کر کوئی الجھن نہیں ہے
تعلق کی رمق باقی تو ہے پر
وہ پہلے جیسی کوئی دھن نہیں ہے
کبھی جو آنکھ میں ٹھہرا ہوا تھا
اب اُس آنکھوں میں وہ ساون نہیں ہے
میں تنہا ہوں مگر یہ بھی حقیقت
تمہاری یاد سے دامن نہیں ہے
نہ اشکوں کی وہ پہلی سی روانی
نہ دل میں اب کوئی دھڑکن نہیں ہے
یہ خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے
مگر اس میں کوئی پنہاں نہیں ہے
بچھڑ کر بھی عجب رشتہ رہا ہے
کہ دل خالی ہے، پر ویران نہیں ہے
تمہیں سو بار چاہا دل نے لیکن
تمہارے دل میں وہ چاہت نہیں ہے
مظہرؔ اب یہ حقیقت مان بھی لو
یہی کافی ہے، کوئی ان بن نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






