"مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی"
Poet: وشمہ خان وشمہ۔ By: وشمہ خان وشمہ۔, پاکستان"مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی"
سارے جگ سے اس کی سادہ روشنی اچھی لگی
سرد راتوں میں دعا بن کر مرے سر پر رہی
ماں کے ہاتھوں کی وہ نرم آگہی اچھی لگی
بھوک کے عالم میں بھی اس نے ہنسا کر رکھ دیا
اس فقیرانہ محبت کی خوشی اچھی لگی
گھر کے ٹوٹے در، پرانی چارپائی، نیم شب
ماں کے پہلو میں مگر ہر بےکسی اچھی لگی
شہر بھر نے زر کی چمکوں کو عبادت کہہ دیا
مجھ کو ماں کے آنسوؤں کی چاندنی اچھی لگی
جب کبھی دنیا نے مجھ سے میری پہچان چھینی
ماں نے پکارا تو اپنی زندگی اچھی لگی
اے وشمہ دنیا کی رنگینی میں دل لگتا نہیں
ماں کی جھولی، ماں کی میلی گودنی اچھی لگی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






