"میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے، ماں دیکھی ہے"
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, پاکستان"میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے، ماں دیکھی ہے"
ریت کے صحرا میں جیسے کوئی چھاں دیکھی ہے
رات بھر جاگتی آنکھوں میں نمی رہتی ہے
میں نے تکیے پہ تڑپتی ہوئی جاں دیکھی ہے
اپنے حصّے کی خوشی بیچ کے بچوں کے لیے
ہر تھکن ہنستے ہوئے سہتی ہوئی آں دیکھی ہے
بھوک بچوں کی مٹا دے تو سکوں ملتا ہے
روٹی کم تھی مگر بانٹتی واں دیکھی ہے
گھر کی دیوار گرنے لگی جب غم آ کر
سب سے پہلے وہاں ڈھال بنی ساں دیکھی ہے
عمر بھر خود کو جلاتی رہی اک شمع کی طرح
اپنے بچوں میں بکھرتی ہوئی گاں دیکھی ہے
اب بھی رونے لگوں تنہائی میں اُس کو یا د کر
میں نے وشمہ بہت درد بھری آں دیکھی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






