یہ خواب مرے ٹوٹ
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiیہ خواب ٹوٹ گئے ہیں مرے سہانے سے
کیا ملا ہے تجھے مجھ کو یوں رلانے سے
نہایا صبح سویرے کرو خوشی سے تم
ہو سردی ختم جاتی ہے یوں نہانے سے
کبھی کبھار ملاقات کر لیا کرو تم
نہیں میں کال کروں گا کبھی بہانے سے
فراق ہجر یہ وصلِ نشاط غم کا مزا
یہ بھولتے ہیں کہاں دل سے یوں بھلانے سے
یہ زندگی کا سفر ہم سفر کے ساتھ کیا
خوشی ملی ہے مجھے یار کو گھمانے سے
فریب دینا محبت میں ہوتا اچھا نہیں
نصیب جاگے ہیں عہدِ وفا نبھانے سے
کرو گے عشق تو الزام آئے گا شہزاد
یہ راز چھپتا نہیں ہے کبھی چھپانے سے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






