یوں تو احباب کو سب اچھا نظر آئے گا
Poet: آرب ہاشمی By: مصدق رفیق, Karachiیوں تو احباب کو سب اچھا نظر آئے گا
کوئی مفلس کوئی درماندہ نظر آئے گا
پھر تمہیں میری اذیت کی سمجھ آئے گی
جب کوئی خواب تمہیں آدھا نظر آئے گا
چوک سے سیدھی گلی گھر کی طرف جاتی ہے
موڑ مڑتے ہی وہ دروازہ نظر آئے گا
تم مری آنکھ سے دنیا کو اگر دیکھو گے
پھر محبت میں بھی خمیازہ نظر آئے گا
چاندنی رات میں کچھ پریاں وہاں آتی ہیں
دیکھنے کے لیے شہزادہ نظر آئے گا
دیکھتے رہنا کہ اب میں نے سفر کرنا ہے
دیکھنے والوں کو اک سایہ نظر آئے گا
اپنی آنکھوں کو چھلکنے نہیں دینا آربؔ
ایک درویش تمہیں پیاسا نظر آئے گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






