جب تھے کم عمر سمجھ دار نہیں ہوتے تھے
Poet: آرب ہاشمی By: مصدق رفیق, Karachiجب تھے کم عمر سمجھ دار نہیں ہوتے تھے
ان دنوں لوگ اداکار نہیں ہوتے تھے
اب تو وہ لوگ بھی ملنے کو چلے آتے ہیں
بات کرنے کو جو تیار نہیں ہوتے تھے
کچھ گھروں میں کوئی رہتا ہی نہیں تھا افسوس
کچھ گھروں کے در و دیوار نہیں ہوتے تھے
بات کرنے میں کوئی خوف نہیں ہوتا تھا
لوگ یوں ملنے سے بیمار نہیں ہوتے تھے
اس طرح فتح کئے کتنے علاقے ہم نے
جنگ کے واسطے ہتھیار نہیں ہوتے تھے
یوں نہ ہو آنکھ کھلے اور بچھڑ جائیں ہم
بس اسی خوف سے بیدار نہیں ہوتے تھے
جن دنوں خواب لٹاتی تھیں یہ آنکھیں آربؔ
ان دنوں اتنے خریدار نہیں ہوتے تھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






