ہم آج بھی ہیں مُرْشِد و سَیَّد ہزار کے
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), HOUSTON USAروکے عدو کے وار جو خود کو ہی وار کے
جیتا ہوں ہار پیار کے ، میں خود کو ہار کے
تو ہی بتا کہ چھوڑ کے میں عشق کیا کروں
دوچار ہی تو دن ملے ، دنیا میں پیار کے
بیچے ہیں ہاتھ، مرتبہ بیچا نہیں حضور
ہم آج بھی ہیں مُرْشِد و سَیَّد ہزار کے
انسانیت کا درس جو دل سے نکال دے
ہیں بوجھ وہ عبادتیں ، سجدے ادھار کے
آتے ہی اسکے آتے ہیں قوس قزح کے رنگ
جاتے ہی اسکے جاتے ہیں موسم بہار کے
بچوں کا میرے دیس کے کچھ ایسا حال ہے
مرجھائے جیسے پھول ہوں اجڑے مزار کے
بے اختیار کب تمہیں بھیجا گیا یہاں
ہم نے تو دن دئے تھے تمہیں اختیار کے
تاعمر عَطر بیز یوں کرکے مرا چمن
لو چل دیا ہے سانس کی مالا اتار کے
کچھ ایسے تیری یاد نے سرشار کردیا
غم جیسے مٹ گئے ہوں سبھی روزگار کے
جی بھر کے ظلم جان پر مفتی کئے مگر
توبہ کے در کُھلے رہے ، پروردگار کے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






