"دیا بھی جو تو کیا دیا" بجھا بجھا سا دل دیا؟
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), HOUSTON USAجواُن کے روبرو رکھا بجھا بجھا سا دل دیا
وہ مسکرادیے کہا ، بجھا بجھا سا دل دیا؟
ہو ا کا دم اکھاڑ کر ، دیا بھی آخرش بجھا
بلا کا کام کر گیا ، بجھا بجھا سا دل دیا
شعور لینے آگئیں دبی دبی سی خرمنیں
عجب سی روشنی میں تھا ، بجھا بجھا سا دل دیا
لگن کی ہیں کرامتیں یاعشق کا ہے معجزہ
لگی جو لو تو جل اُٹھا بجھا بجھا سادل دیا
وہ جس کی ضد پہ دل دیا اسی لے کے دل کہا
"دیا بھی جو تو کیا دیا" بجھا بجھا سا دل دیا؟
بچی ہے مشکلوں سے بس ہوا کی عزت نفس
ہوا کو بھی رلا گیا ، بجھا بجھا سا دل دیا
اک آتش خیال تھی پے روشنی کمال تھی
جِلا ملی تو پھر جلا ، بجھا بجھا سا دل دیا
ہزار مفتی کاوشیں ، تمام رائگاں گئیں
نہ جل سکا تو رکھ دیا بجھا بجھا سا دل دیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






