کہیں شمر سے نسبتیں تو نہیں ہیں
Poet: ابنِ مفتی By: سید اے مفتی, houstonزمٰیں کھینچئے ، آسماں کھینچئے گا
کسی سر سے مت سائباں کھینچئے گا
کرو روح ، اسوار اپنے بدن پر
تنفس کا پھر کارواں کھینچئے گا
کہ مرغولہ ٹوٹا ہوا دل بنادے
اِس انداز سے یہ دھواں کھینچئے گا
جو معدوم امید ہی ہوگئی ہے
تو آہ دل ناتواں کھینچئے گا
اگر ڈوبنے کو ہے سانسوں کی کشتی
طنابیں بھی ، تب رائگاں کھینچئے گا
جو اک چھت تلے ساتھ ممکن نہیں ہے
میاں ، پھر خطِ درمیاں کھینچئے گا
نشانے پہ مجھ کو کھڑا کیجئے گا
نگاہوں سے پھر یہ کماں کھینچئے گا
پڑاؤ کو ہے دل کا ویران خانہ
یہ چلّے بھی سارے وہاں کھینچئے گا
کہیں شمر سے نسبتیں تو نہیں ہیں
جو ، اب کان سے بالیاں کھینچئے گا
ملاتے رہو پہلے نقطوں سے نقطے
بڑا سا ، پھر اک دائرہ کھینچئے گا
ڈرو نہ ہوا کے تھپیڑوں سے ہر گز
جہاں تک چلے بادباں کھینچئے گا
میں جیسے ہی دوں سجدہ ء آخری
بھلے لاش یاں سے وہاں کھینچئے گا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا






