نیند میری خواب سارے آپ کے
Poet: ابنِ مفتی By: سید اے مفتی, houstonہم سے ملتے تھے سِتارے آپ کے
پھر بھی کھو بیٹھے سہارے آپ کے
کیسا جادو ہے سمجھ آتا نہیں
نیند میری خواب سارے آپ کے
ایسے لگتا ہے محبت ہوگئی
دل جو دھڑکے ہیں ہمارے آپ کے
آنکھ کے رستے مجھےآنے تو دیں
دل میں گھر کرنے کو پیارے آپ کے
ہوگئے ہمگام دونوں یہ جہاں
ساتھ جو کچھ پل گذارے آپ کے
ہم سے شاید معتبر ٹہری صبا
جس نے یہ گیسو سنوارے آپ کے
آپ کی نظر کرم کے منتظر
کب سے بیٹھے ہیں دوارے آپ کے
کوئی اس کی آنکھ کو بھائے گا کیوں
جس نے دیکھے ہوں نظارے آپ کے
بِن ترےتو سانس بھی تو چلتی نہیں
ہر گھڑی چاہے اشارے آپکے
مسکر ا کر دیکھیئے تو ایک بار
کہکشاں یہ چاند تارے آپ کے
جھوٹ ہے مفتی بُھلا بیٹھے ہو سب
کیوں تھے پلکوں پر ستارے آپ کے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






