کہہ رہی ہے مرے کانوں میں بشر کی صورت
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا"ہر بشر دیکھنے لگتا ہے بشر کی صورت "
کہہ رہی ہے مرے کانوں میں بشر کی صورت
حرف سچائی کے جب جب بھی مٹے ہیں دل سے
ڈھونڈ لیتی ہے اسے میری نظر کی صورت
ایسے غفلت کدہ میں آئے کہ ہم بھول گئے
وہ مجھے بھول گیا ہے تو ہنر کی صورت
زندگی کیا ہے مسائل کا خزانہ ہی تو ہے
اپنی خوشبو سے کوئی پھول نظر کی صورت
شمع جلتی ہے کسی اور کے غم میں لیکن
شام غم بیت گئی زیر اثر کی صورت
ٹوٹے حسرت کا منارہ تو کوئی فکر نہیں
کیسی مجبوری ہے اک بار خبر کی صورت
آنکھ کھلتے ہی عجب بات مرے ساتھ ہوئی
گم ہوا پھر مرے خوابوں کا نگر کی صورت
سانس لینی بھی ہے دشوار چمن میں وشمہ
آگئی ہوں تری چوکٹ پہ پیر کی صورت
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






