محبت بڑی خوب صورت بلا ہے
Poet: نوشین فاطمہ عبدالحق By: nosheen fatima abdulhaqq, Multanمحبت بڑی خوب صورت بلا ہے
درندوں میں شفقت اسی کی عطا ہے
گلوں کا بدن کیوں مسلنے لگی ہے
نہ جانے ہوا پر جنوں کیا چڑها ہے
مرے قرب کی ضد میں نادان سورج
قمر کی رقابت میں جلنے لگا ہے
جہاں تتلیاں ہوش کهونے لگیں ہوں
وہاں گل کو خوشبو بهی اک بددعا ہے
کٹهن رہگزر سے سبق سیکهنا ہو
تو دشوار راہوں کا اپنا مزہ ہے
ہمیں رہ دکهاتے ہوئے ایک جگنو
بچارہ بهٹکتا چلا جا رہا ہے
پتنگے فدا ہو گئے لیک نوشی
نہ شمع ان کو حاصل ، نہ راضی خدا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






