کون جیتے گا یہی شرط
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiکون جیتے گا یہی شرط لگی ہوئی ہے
ہارتا کون ہے اب قوم ڈری ہوئی ہے
گرنے کے بعد اسے ہوش نہیں آیا ہے
جسم پر مٹی ابھی تک ہی جمی ہوئی ہے
جانے کس نے یہ کیا وار ہے چوری چپکے
غور سے دیکھو شجر شاخ کٹی ہوئی ہے
دور سے آئے ہیں آثار نظر غربت کے
کہہ دیا ہے اسے دستار پھٹی ہوئی ہے
اتنی مہنگائی ہے کم دام نہیں لوں گا میں
رہنے دو بس یہ مکی میری بکی ہوئی ہے
عشق کے مارے یہاں لوگ سبھی ہیں اکٹھے
اب چلے آؤ یہ محفل تو سجی ہوئی ہے
ملتے عشاق ہیں بے لوث محبت سے جب
جھک نہیں پائے نظر ان کی اٹھی ہوئی ہے
لوگ شہزاد غریبوں کی کرتے ہیں مدد
کب سے ہی رسمِ درینہ تو چلی ہوئی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






