ہجر چھپتا نہیں
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiہجر چھپتا نہیں آنکھوں میں نمی رہتی ہے
زندگی ختم نہیں ہوتی چلی رہتی ہے
کب ملو گے یہ ملاقات ضروری ہے اب
عشق عاشق کا ادھورا ہے کمی رہتی ہے
جینے کا سیکھ سلیقہ لو ہے جینا کیسے
ہاتھ منہ دھوتے نہیں میل جمی رہتی ہے
محو رہتا ہوں خیالوں میں غم اتنے ہیں
وقت ملتا ہی نہیں روٹی پڑی رہتی ہے
سلسلے ختم نہیں ہوتے محبت کے کبھی
زندگی ختم نہیں ہوتی جڑی رہتی ہے
پھول مر جھائے تو گر برگ شجر جاتے ہیں
باغ میں آئے خزاں شاخ ہری رہتی ہے
یہ کبھی موت سے ڈرتے نہیں ہیں دیوانے
زیست ہر وقت دیے پہرا کھڑی رہتی ہے
عشق دیوانے کو دیوانہ بنا دیتا ہے
ختم ہوتی نہیں محفل تو سجی رہتی ہے
عشق شہزاد کبھی کم نہیں ہوتا دل سے
دیکھ لو دل میں محبت تو بھری رہتی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






