کون اب دیکھے فلک تیرا قمر آج کی رات
Poet: Tasdiq Ahmed Khan By: Tasdiq Ahmed Khan , Ajmerکون اب دیکھے فلک تیرا قمر آج کی رات
انکے رخ سے ہی نہیں ہٹتی نظر آج کی رات
آپ رہ رہ کے میری سمت نہ دیکھو ورنہ
سب کو ہو جاءیگی الفت کی خبر آج کی رات
بد گماں انکو کہیں کر نہ دیں احباب میرے
لگ رہا ہے مجھے اس بات کا ڈر آج کی رات
انکی رسوائی کا ہوتا نہ اگر خوف مجھے
میں حدَ عشق سے بھی جاتا گزر آج کی رات
خون ہو جاءیگی برسوں کے یقینَ دل کا
کرکے وعدہ نہ تو للہ مکر آج کی رات
سجدہ مقبول ہو یا ہو نہ غرض کیا اس سے
رکھ دیا یار کی دہلیز پہ سر آج کی رات
بعد مدت ملی تصدیق ہمیں تنہائی
ما سوا پیار کوئی بات نہ کر آج کی رات
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






