زیب تن کر کے چلا وشمہ یہ چادر مجھ کو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامستقل دیتا رہا زخم ستمگر مجھکو
اور چبھو تا رہا ہر زخم پہ نشتر مجھکو
آنکھوں نے اس کی فقط ایک جھلک دیکھی تھی
دل میں بر پا ہوئے اک آن میں محشر مجھکو
وعدہ پرکھوں سے کیا تھا جو نبھایا میں نے
پیش خدمت میں ہوئے ورنہ تو ساغر مجھکو
زور چلتا نہیں زر ۔ زور ۔ زمیں کا سب پر
ملکہ حسن سے ہار ے ہیں سکند ر مجھکو
گہری خاموش سی ان آنکھوں کی جھیلوں پہ نہ جا
لہریں ان جھیلوں میں مارے ہیں سمند ر مجھکو
کارواں میرے سخن کا تو بصد ناز بڑھا
گرچہ حائل ہو ئے ہر گام پہ پتھر مجھکو
تھا زمانے سے چھپانا ہمیں چہرہ اپنا
زیب تن کر کے چلا وشمہ یہ چادر مجھ کو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






