کوئی آکے دل میں سما گیا یونہی قربتیں بھی بڑھا گیا
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbaiکوئی آکے دل میں سما گیا یونہی قربتیں بھی بڑھا گیا
بڑھی دھڑکنیں کبھی دل کی تو وہ ہمیں سے نظریں چرا گیا
ملے دل سے دل یہ ہے آرزو یہ ہے اپنی ہر گھڑی جستجو
جو ہوا ہو عہد وفا کبھی وہ قرار جان پہ آگیا
یہ تو زخموں سے ہوا چور دل کہ سناؤں کس کو میں حال دل
نہ ملے کوئی بھی تو اہل دل کہ زمانہ وہ تو چلا گیا
کوئی کیوں ستائے کہ دل ہے یہ کوئی سنگ و خشت نہیں ہے یہ
گریں اشک کے ہی تو موتی بس یوں ہی دریا بہتا چلا گیا
تجھے کچھ خبر بھی تو ہے اثر تیرے دل کے ٹوٹنے پہ اگر
کوئی نازاں ہو کہ اسی میں بس یہ مقدر تیرا جگا گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






