نگاہوں میں ان کی جو ہم دیکھتے ہیں
Poet: علی رقی By: علی رقی , Faislabad, Pakistanنگاہوں میں ان کی جو ہم دیکھتے ہیں
بشر میں خدائی کو ضم دیکھتے ہیں
میاں دل میں ان کے تو کچھ چل رہا ہے
وے ہم کو جو یوں دم بہ دم دیکھتے ہیں
انہیں خلد سے تیری کیا لینا دینا
زمیں پر جو حورِ ارم دیکھتے ہیں
جسے سجدہ کرنے کو دل ہی نہ چاہے
وہ کاہے کو ایسا صنم دیکھتے ہیں
وہ کہتے ہیں وللہ یہ کیا ہو گیا ہے
ذرا بھی جو آنکھوں کو نم دیکھتے ہیں
کرم ہے خدا کا کرم ہے خدا کا
کہ بچپن سے گھر میں علم دیکھتے ہیں
قضا سے فقیروں کو ہو خوف کیسا
ازل سے جو راہِ عدم دیکھتے ہیں
تو کاہے کو ملنے نہیں آتا مجھ سے
رقی تیرے نقشِ قدم دیکھتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






