کبھی وہ خواب میں آیا، کبھی آنکھوں سے تر آیا
Poet: سیف علی عدیل By: سیف علی عدیل , Gujranwalaکبھی وہ خواب میں آیا، کبھی آنکھوں سے تر آیا
محبت کے دریچوں میں عجب سا ایک در آیا
نہ تھا کوئی، نہ کچھ مانگا، فقط اک لمسِ جاں پرور
مگر وہ روح کو چھو کر، کسی صوفی کے سر آیا
نہ لفظوں میں سما پایا، نہ صورت میں دکھا خود کو
وہی خاموش لمحہ تھا، جو دل میں بارِ دَر آیا
خزاں کے بیچ ہنستے پھول جیسے یاد بن کر وہ
کسی پرچھائیں کی صورت، مری آنکھوں کے گھر آیا
جو دُنیاؤں سے آگے تھا، وہی چپ چاپ بیٹھا تھا
میں جب گِر کر اٹھا دل سے، وہ تب پہلی نظر آیا
نہ اس کا نام ممکن ہے، نہ چہرہ مستقل کوئی
کبھی خوشبو بنا آیا، کبھی ساگر میں بھر آیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






