میرے سجدوں میں کوئی لمحۂ دیدار ملے
Poet: سیف علی عدیل By: سیف علی عدیل , Gujranwala میرے سجدوں میں کوئی لمحۂ دیدار ملے
جیسے سینے میں کوئی رازِ پرستار ملے
کاش اُٹھتے ہی ہو آہٹ کوئی شب کے پچھلے پہر
در کھلا ہو، تو مجھے سایۂ دیوار ملے
کوئی خوشبو جو بکھر جائے ہواؤں میں کبھی
اُس کے ہوتے ہوئے پھر مرا دلدار ملے
دل کی ویرانی میں اک شور بپا رہتا ہے
میرے لفظوں میں کہیں ایک ہنر دار ملے
خواب میں مجھ کو نظر آتے ہیں لمحاتِ وصل
یہ دعا ہے مری آنکھوں میں کوئی پیار ملے
میرے آنسو مرے رخسار پہ ٹھہرے ہیں عدیل
اور اشکوں میں کوئی نقشِ گرفتار ملے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






