کاجل
Poet: By: Sohial Iqbal, Chakwalکاش میں تیری حسین آنکھ کا کاجل ہوتا
تو مجھے آنکھ کے گلشن میں اتارا کرتی
میں تیری پلکوں کے سائے میں پڑاؤ ڈالے
تیرے رخسار کی سرخی میں اضافہ کرتا
جب تیری آنکھ سے اشکوں کے ترانے بہتے
میں تیری گال پہ ساون کا حسین بادل ہوتا
مجھ کو بے چین سے رکھتا تیری قربت کا مزہ
میں تیری آنکھ کے گلشن میں مہکتا رہتا
جب تیرے ہاتھ کی نرمی کی ضرورت پڑتی
میں تیری آنکھ میں ہلکی سے شرارت کرتا
اور کچھ نہیں بس تیرے حسن کا حاصل ہوتا
کاش میں تیری حسین آنکھ کا کاجل ہوتا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






