پیار کی بیماری
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAMجس دن سے پیارکی بیماری ہو گئی ہے
اس دن سے بری حالت ہماری ہو گئی ہے
ایک باراس کی مترنم آواز کیا سنی
اب وہ ہمیں جان سے پیاری ہوگئی ہے
یہاں کوئی کسی سے سچا پیار نہیں کرتا
مگر یہاں جان دینے کی تیاری ہو گئی ہے
دور حاضر کے ماڈرن عاشقوں کی بدولت
اب دنیا سے ختم وفاداری ہو گئی ہے
اکیلے میں اسے یاد کر کے رو لیتا ہوں
اب اس کہ غم سے میری یاری ہو گئی ہے
جب سے اسے اپنا بنانے کی ٹھانی ہے
نہ جانے کیوں دشمن خدائی ساری ہو گئی ہے
تم نے اپنی حالت پہ بھی کبھی غور کیا اصغر
کسی کے پیار میں کیا حالت تمہاری ہو گئی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







