پہلے ملنے کی دعا کرتے ہو تم
Poet: نذیر اے قمر By: نذیر اے قمر, madridپہلے ملنے کی دعا کرتے ہو تم
مسکرا کر پھر خفا کرتے ہو تم
ڈوبتے سورج سے کر کے دوستی
پھر سے روشن اک دیا کرتے ہو تم
زرد رت ہے صحن میں بکھری ہوئی
پھر بھی دل میں راستہ کرتے ہو تم
زندگی سے درد کی جب جنگ ہے
کس کے کہنے پر دعا کرتے ہو تم
وہ تو نکلا ہے خلا سے کھیلنے
جس کی حسرت میں جیا کرتے ہو تم
گاؤں کے منظر ہیں جبکہ دلنشیں
شہر کے موسم میں کیا کرتے ہو تم
شاعری کا رزق سے کیا واسطہ
اس کے بدلے میں بھی کیا کرتے ہو تم
تم وفا کی داستاں ہو جب قمر
حق بجانب ہو ، بجا کرتے ہو تم
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






