اغیار کی مٹی میں گہر ڈھونڈ رہے ہیں
Poet: نذیر اے قمر By: نذیر اے قمر, madridاغیار کی مٹی میں گہر ڈھونڈ رہے ہیں
اس ملک میں محنت کا ثمر ڈھونڈ رہے ہیں
ہوتی ہے جہاں شان کریمی کی عنایت
دیوار محبت میں وہ در ڈھونڈ رہے ہیں
کچھ لوگ یہاں عشق کے صحرا میں بھٹک کر
کھوئی ہوئی صدیوں کا سفر ڈھونڈ رہے ہیں
اس خاک پہ پانی کی ہی تقسیم غلط ہے
جس خاک پہ اشکوں کا ثمر ڈھونڈ رہے ہیں
جس روز سے دیکھا ہے یہ جنت کا نظارہ
کشمیر کی وادی میں نگر ڈھونڈ رہے ہیں
رکھے ہوئے اک میز پہ چائے کی پیالی
اخبار میں ہم ایک خبر ڈھونڈ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے پنچھی ہیں خیالوں کے فلک پر
صیاد نے کاٹے ہیں جو پر ڈھونڈ رہے ہیں
ہم اپنے ہی اجداد کی تہذیب کو کھو کر
اب چاک پہ پھر دست ہنر ڈھونڈ رہے ہیں
ہم شام کے سورج کو دریچے میں جلا کر
پھر رات کی آنکھوں میں قمر ڈھونڈ رہے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






