پھر بھی لب مل لئے رخسار سے تدبیر کے ساتھ
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), HOUSTON USAپا بہ زنجیر ہوئے زلف گرہ گیر کے ساتھ
پھر بھی لب مل لئے رخسار سے تدبیر کے ساتھ
ہمکو قرآن کی آیات نے رہ دکھلائی
جب بھی بھٹکے کسی لکھی ہوئی تفسیر کے ساتھ
دل کی دھڑکن نے ترے نام کی تسبیح پڑھی
زخم دیرینہ کی چھننے لگی تاثیر کے ساتھ
ایک سے ایک جو شہکار ہوئے دیکھ لئے
کوئی تصویر نہ ٹھہری تری تصویر کے ساتھ
نیند میٹھی تھی مگر خواب ذرا ترش رہا
اس لئے ہم نے بگاڑی نہیں تعبیر کے ساتھ
سننے والوں پہ اثر اور بھی گہرا ہوتا
ساتھ چہرہ بھی جو دیتا تری تقریر کے ساتھ
عرش والوں نے بھی فریاد سنی جیسے ہی
صبح کی تال ملی نالہ ء شب گیر کے ساتھ
دیر کے کام تھے عجلت میں جو کرنا چاہے
جلدی جلدی میں بھی پہنچے بڑی تاخیر کے ساتھ
بن گیا مصحف آیات محبت جاناں
اپنی تحریرجورکھی تری تحریر کے ساتھ
ہم کو بھی دیکھنا تھا نور محمد مفتی
آگئے دنیا میں ہم خوبی ء تقصیر کے ساتھ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






