وہ حق کی راہ میں سر کو کٹا کے مارا گیا
Poet: By: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی, houstonوہ حق کی راہ میں سر کو کٹا کے مارا گیا
جھکا نہیں تھا سو اسکو گرا کے مارا گیا
اسے کہا گیا بیعت تری ضمانت ہے
نہ مانا تو اسےکربل بلا کے مارا گیا
عجیب کاٹ تھی اسکی زبان میں یارو
سو جام خامشی اس کو پلا کے مارا گیا
دیار غیر میں رکھے نہیں جو لب خاموش
تو اسکے سر کو نشانہ بنا کے مارا گیا
شہ عرب سے کہا اسکو ملک بدر کرو
قریب لا کے اسے قتل گاہ کے مارا گیا
عجیب طرز کی تھی میزبانی یہ مفتی
جہاں پہ دوست کو مہماں بنا کے مارا گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






