ہر بوالہوس کو حسن ہے بیوپار کی طرح
Poet: By: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی, houstonہر بوالہوس کو حسن ہے بیوپار کی طرح
ڈالی گئی یوں مصر کے بازار کی ” طرح “
بازار احتیاج میں خواہش کے نام پر
خود کولٹایا دولت بیکار کی طرح
دل ہے کہ ڈگمگائے سا پھرتا ہے آجکل
حیراں ہوں یہ بھی چل پڑا سرکار کی طرح
پہنا ہے کیوں لبادہ ء نفرت بتائیے
کیونکر کھڑے ہو راہ میں دیوار کی طرح
اٹھنے کا ڈھنگ یاد نہیں کس طرح اٹھیں
ہم سورہے ہیں مستقل بیدار کی طرح
در اصل پیرو کار شیاطین میں سے تھا
چاہا گیا جو ہر جگہ اوتار کی طرح
نسخہ بتاوں امت مسلم کی اوج کا
جینا پڑے گا ارطرل سالار کی طرح
کتنی عجیب بات ہے دل توڑ کر گیا
مفتی جسے بھی چاہا ہے دلدار کی طرح
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






