ناز پر یہ گداز کیسے ہے
Poet: جہانگیر By: جہانگیر, Faisalabadناز پر یہ گداز کیسے ہے
تو حقیقت مجاز کیسے ہے
مجھ کو دھڑکن کا ہے سدا دھڑکا
نا دھڑکنے سے باز کیسے ہے
یہ جہاں ہے جہاں بھی دیکھو گے
پھر نشیب و فراز کیسے ہے
کوئی کوفہ و کربلا میں شہید
کوئی محمود ایاز کیسے ہے
زندگی کا یا موت کا ہو شعور
یہ مجھے بے ریاض کیسے ہے
اے مرے خواب تو اگر ہے گماں
تو حقیقت نواز کیسے ہے
جب نہیں ہے کسی کو میرا لحاظ
مجھ کو سب کا لحاظ کیسے ہے
جو نہیں وقت کاٹتے کٹتا
حال کا امتیاز کیسے ہے
رشک مخلوق آدمی عامرؔ
اک قلم کی بیاض کیسے ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






