نازک چراغِ زیست
Poet: ڈاکٹر شاکرہ نندنی By: ڈاکٹر شاکرہ نندنی, Portoدل کی زمیں پہ وقت کا نقشِ خزاں بھی ہے
اک نازک آئینہ ہوں، مگر آسماں بھی ہے
عشقِ حقیقی ہو کہ ہو دل کا فسانہ بس
اک درد ایسا ہے جو ہر دل میں جاں بھی ہے
یہ شہر تیرے لوگ، تری رسم و راہ ہے
گاؤں میں ہوتا تو فقط تُو مکاں بھی ہے
اک دل، اک نگاہ، اک ارادہ ہو بلند
یہی خزاں بھی ہو، یہی گلستاں بھی ہے
مزید کیا ہو نیلام عشق کی گلیوں میں
قیمت تری ہو، نام میرا نشاں بھی ہے
کچھ مجبوریاں ہیں، کچھ فکریں حیات کی
ورنہ یہ عشق فقط اک زیاں بھی ہے
زیست برائے زیست نہ ہو، بیداری ہو
ورنہ بدن تو ہر سو یہاں بھی ہے، وہاں بھی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






