سلگتی نظروں کا خواب ہو تم
Poet: بانو صایمہ By: مصدق رفیق, Karachiسلگتی نظروں کا خواب ہو تم
محبتوں کا شباب ہو تم
سمجھ نہ پائی جسے کبھی میں
کتاب دل کا وہ باب ہو تم
کہو تو جز دان میں چھپا لوں
کھلی ہوئی اک کتاب ہو تم
بچھے تھے راہوں میں پھول کتنے
جو بھا گیا وہ گلاب ہو تم
برا کہے تم کو لاکھ دنیا
مرے تو عالی جناب ہو تم
نہیں ہے بس میں تمہیں بھلانا
عجب طرح کا عذاب ہو تم
لگا کہ منزل تمہی ہو لیکن
نظر کا میری سراب ہو تم
وفا سے عاری سہی مزاجاً
وفا کا میری جواب ہو تم
کئی سوالوں میں تم گھرے ہو
مگر بہت لا جواب ہو تم
الٹ کے رکھ دی ہے میری دنیا
حیات کا انقلاب ہو تم
میں راگ رنگ اور رقص جیسی
غزل ترنم رباب ہو تم
یہ نشہ ٹوٹا نہ زندگی بھر
بہت پرانی شراب ہو تم
اے جان بانوؔ یہ جان لو اب
بذات خود انتخاب ہو تم
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






