مرا ساتھ اس نے بنایا تماشا
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگمرا ساتھ اس نے بنایا تماشا
مگر میں نے پھر بھی نبھایا تماشا
پرانی کہانی ابھی چل رہی تھی
کہ اس نے نیا اِک دِکھایا تماشا
یہ تھیٹر تماشائیوں سے بھرا تھا
جب اِس بار اس نے لگایا تماشا
معاوِن اداکار کیوں بیچ آۓ ؟
جو تنہا تھا اس نے چلایا تماشا
مجھے ایک منفی سا کردار دے کر
لگاتار اس نے بڑھایا تماشا
جو مہماں اداکار کا میں نے پوچھا
تو کیوں اس نے مجھ سے چھپایا تماشا ؟
مرے خون سے سارا اِسٹیج بھر کے
بڑا ہی بھیانک بنایا تماشا
نہ جانے دِیں کس نے ہدایات اس کو ؟
جو لے کر مری جاں مِٹایا تماشا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






