تیری یادیں میرا سایہ
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگتیری یادیں میرا سایہ
ساۓ سے میں بھاگ نہ پایا
مجھ کو میری فکر نہیں ہے
میرے اندر کون سمایا
رب جانے وہ بچھڑا کیوں کر
جس کو میں نے مِیت بنایا
روتے ساری عمر کٹی ہے
پر نہ آنکھ سے آنسو آیا
اپنا جیون ایک کھلونا
جس نے چاہا جی بہلایا
ان پر کوئی آنچ نہ آئی
ہم نے اپنا آپ جلایا
ان لوگوں نے نیند اڑائی
جن لوگوں نے خواب دکھایا
مجھ سے ناتا توڑ کے اپنا
نہ جانے وہ کیوں پچھتایا
یاد کیا پھر اس نے مجھ کو
وقت کوئی جو مشکل آیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






