محبتوں پر دل حزیں کو نثار کرنا
Poet: عابد جعفری By: مصدق رفیق, Karachiمحبتوں پر دل حزیں کو نثار کرنا
ہے یوں کہ جیسے جنوں میں خود ہی پہ وار کرنا
عجب نہیں وہ بھی میرے رستے پہ خود کو ڈالے
وہ جس نے سیکھا ہے قافلوں کو غبار کرنا
وہ ایک بارش کی منتظر بے شمار آنکھیں
وہ ایک طوفاں کا بستیوں کو شمار کرنا
مجھے تو اس نے تمام لمحے وہی دئے ہیں
وہی جو اہل جنوں کو ہوں اختیار کرنا
شفق اتر کر تمہارے پلو سے بندھ گئی ہے
جو ہو سکے تو سحر تلک یہ حصار کرنا
اذیتوں کا خمیر زخم نہاں سے اٹھا
کبھی جو چاہا ہے دل کا صحرا بہار کرنا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






