وہ دل کی جھیل میں اترا تھا ایک ساعت کو
Poet: عابد جعفری By: مصدق رفیق, Karachiوہ دل کی جھیل میں اترا تھا ایک ساعت کو
یہ عمر ہو گئی ہے سہتے اس ملامت کو
کہیں تو سایۂ دیوار آگہی مل جائے
کوئی تو آئے کرے ختم اس مسافت کو
تمہیں سے مل کے مری دل سے آشنائی ہو
تمہارے بعد ہی جانا ہے اس قیامت کو
وہ ایک شخص مجھے کر گیا سبھی سے جدا
ترس رہا ہوں میں جس شخص کی رفاقت کو
عجیب لوگ ہیں اس شہر کے بہ نام وفا
ہوائیں دیتے ہیں ہر شعلۂ عداوت کو
جواز بھی تو کوئی ہو مری تباہی کا
چھپا رہے ہو تبسم میں کیوں ندامت کو
گئے دنوں کا مناتے ہو سوگ پھر عابدؔ
ہمیں یقیں ہے نہ بدلو گے اپنی عادت کو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






