فقط خلوص محبت میں مارا جاؤں گا
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد , Ali wahفقط خلوصِ محبت میں مارا جاؤں گا
میں اپنے ملک کی خدمت میں مارا جاؤں گا
نہیں میں چھوڑ کے جانے لگا وطن اپنا
ضرور اپنی ریاست میں مارا جاؤں گا
میں بے ضمیر عدالت سے بچ گیا تو پھر
محافظوں کی حفاظت میں مارا جاؤں گا
اگر ضمیر فروشوں کی بات نہ مانی
یقین جانو سیاست میں مارا جاؤں گا
اگر نہ اپنے نہج بدلے دیکھ لینا پھر
میں دشمنوں کی عداوت میں مارا جاؤں گا
یہ جانتا ہوں ملے گا نہیں کبھی انصاف
کہیں پہ جج کی عدالت میں مارا جاؤں گا
رقیب اپنے بنے دوست جان سے پیارے
میں دوستوں کی بغاوت میں مارا جاؤں گا
نہیں سنیں گے رعونت میں بات جب شہزاد
تو اپنے دور حکومت میں مارا جاؤں گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






