عشق کی انتہا
Poet: farah ejaz By: farah ejaz, dearborn, mi USAفقط اتنا کہنا چاہتی ہوں
تجھ سے کوئی گلہ نہیں
جو کچھ ہوا وہ میرا نصیب ٹھہرا
تُو تو مجرم نہیں
تیری مرضی تو جس طرح سلوک کرے
دل پر تیر چلائے یا جگر چھلنی کرے
ہم نے جب حق دے دیا تجھ کو
تو شکوہ کون کرے
پاتال میں گرا دیا خود کو
تو اونچائی کے خواب کیوں دیکھیں
خواب سارے نوچ دے اب
یہ سارے حق چھین لے اب
اف بھی زباں پر نہ لائینگے ہم
ہر ستم پر فقط مسکرائینگے ہم
درد سہنے کی عادت سی بن گئی ہے اب
تیری ہر بات پر سر جھکا دینگے اب
تیرے مان کو نہ توڑینگے کبھی
مر جائینگے لب نہ کھولینگے کبھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






